(اہم وضاحت: اس خبر میں شیئر کیا گیا ڈیٹا اور اعداد و شمار حقیقی وقت کی تبدیلیوں اور اتار چڑھاؤ سے مشروط ہیں۔ یہ صرف تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ اسے مالیاتی مشورے کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے یا مالی فیصلے کرنے کی بنیاد کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا)
یہ عمل متنازع بھی ہے کیونکہ دنیا بھر میں لوگ سب سے پہلے تصدیق کی دوڑ میں رہتے ہیں اور اسی سبب برقی توانائی بھی ضائع ہوتی ہے اور پاکستان میں بھی کرپٹو کرنسی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
اس میں اگر کوئی صارف یہ چاہتا ہے کہ دولوگوں کے درمیان ہونے والی ٹرانزیکشن کی تصدیق کرے تو اس کے لیے اس کو پہلے کچھ کو ائنز لاک کرنے ہوتے ہیں تا کہ اس کا احتمال ختم ہو جائے کہ یہ صارف جعلی تصدیق نہ کر دے، جب یہ صارف تصدیق کا عمل مکمل کر چکا ہو تو نئے کوائنز کی تشکیل ہو جاتی ہے اور وہ کوائنز اس صارف کے اکاؤنٹ میں آجاتے ہیں، اور اس عمل کے نتیجے میں ایک نیا بلاک نیٹ ورک میں بن جاتا ہے۔ (۶)
’مجھے بغیر آستین والا لباس پہننے کی وجہ سے وزیر کو ایوارڈ دینے سے روکا گيا‘: انڈین طالبہ کا دعویٰ
اگر آپ یہ جاننے چاہتے ہیں کہ حالیہ ہفتوں میں بٹ کوائن کی قدر میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں تو یہاں کلک کیجیے۔
ہندوستان اور چین کے مابین واقع ، بھوٹان – جو کاربن منفی بننے کے لئے دنیا کا پہلا ملک بھی ہے – حالیہ برسوں میں دنیا کے سب سے مشہور کریپٹوکرنسی میں لاکھوں ڈالر کی کان کنی ہے ، جس سے ایک معاشی شرط ہے جو اسی حد تک نہیں ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق بتاتی ہے کہ بٹ کوائن کی قدر میں تازہ ترین اضافہ اس لیے نہیں ہو رہا ہے کیونکہ انفرادی خوردہ سرمایہ کار بٹ کوائنز خرید رہے ہیں۔
گاڑی میں ٹوائلٹ سیٹ: کیا چینی کمپنی کار میں بیت الخلا نصب کرنے جا رہی ہے؟
یہ بطور مثال بٹ کوائن کی ٹرانزیکشن کا طریقہ کار مختصراً ذکر بٹ کوائن کی قیمت کیا گیا۔ اس میں ایک احتمال باقی ہے وہ یہ کہ کیا حسن واقعتا اس بٹ کوائن کا مالک تھا بھی یا اس نے جعل سازی کے تحت یہ کوائن فرضی طور پر بنا رکھا تھا ؟ عام زندگی میں اس سوال کا جواب کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ دیتے ہیں جس کے تحت وہ یہ ذمے داری لیتے ہیں کہ معاملہ ہر قسم کی جعل سازی سے پاک ہے لیکن بٹ کوائن چونکہ ایک ڈی سینٹر کریپٹو کرنسی لائیز ڈ ٹیکنالوجی پر قائم ہوتا ہے تو اس میں کوئی ادارہ یا بینک یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس احتمال کو دور کرنے کے لیے تصدیق کا عمل بنایا گیا جس میں یہ احتمال دور کیا جاتا ہے کہ واقعتا حسن اس بٹ کوائن کا مالک تھا اور وہ اس میں کوئی دھوکہ دہی کا معاملہ نہیں کر رہا۔ ہم نے ذکر کیا کہ مختلف کرنسیوں میں یہ تصدیق کا عمل مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ کچھ کرنسیوں میں سٹیکنگ“ کا عمل ہوتا ہے جبکہ بٹ کوائن میں یہ تصدیق کا عمل ” مائیننگ کے ذریعے ہوتا ہے۔
اسلام آباد، راولپنڈی میں ہر قسم کی ٹریفک کا داخلہ تاحکمِ ثانی بند، ’عوام تعاون کریں‘
فروری کے وسط میں ایسے ای ٹی ایف شروع کرنے کے لیے درخواست دینے والی سرمایہ کار کمپنیوں نے ہزاروں کی تعداد میں بٹ کوائنز خریدنا شروع کر دیے، کیونکہ ہیج فنڈز سے لے کر سٹاک مارکیٹ کے تاجروں تک ہر کسی نے بٹ کوائن کی قیمت پر شرط لگانے کے لیے ای ٹی ایف خریدے جبکہ خود ان کے پاس ایک بھی ایسا کوائن نہیں تھا۔
بہت سے کرپٹو کرنسی پروجیکٹس کا تجربہ نہیں کیا گیا، اور عام طور پر بلاک چین ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر اپنانا ابھی باقی ہے۔ اگر کرپٹو کرنسی کا بنیادی خیال اپنی صلاحیت تک نہیں پہنچتا ہے، تو طویل مدتی سرمایہ کار کبھی بھی وہ منافع نہیں دیکھ سکتے جس کی انہیں امید ہے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: کیا ماضی میں ایسے اقدامات کسی ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکے ہیں؟